بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنانی اخبار 'الاخبار' کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کا یمن کے آبنائے باب المندب پر دوبارہ قبضہ کرنے کا منصوبہ ایک بار پھر شکست سے دوچار ہو گیا ہے؛ کیونکہ جن ملیشیاؤں نے سعودی حکمرانوں کو وعدہ دیا تھا کہ وہ اس بین الاقوامی آبنائے کو چند دنوں میں واپس لے لیں گی، وہ اس کے جنوب میں اپنے پہلے والے ٹھکانوں کو بھی برقرار نہ رکھ سکیں اور اپنے پرانے مورچوں سے بھی پسپا ہو گئے۔
تیسری اور آخری قسط:
بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے گذشتہ روز شام کو بھی شہر عدن میں سرکاری محل 'المعاشیق' میں مغربی ساحل کے آپریشنز کے کمانڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کی خبر دی؛ ایسا ہیڈکوارٹر جسے سعودی افسران چلاتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس ہیڈکوارٹر سے منسلک ہتھیاروں کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سعودی اجرتیوں کی ان عجیب و غریب شکستوں اور پسپائیوں کے باوجود، سعودی عرب یمن کے جنوبی صوبوں میں اپنی اجرتی ملیشیاؤں کو دوبارہ منظم کرنے اور باب المندب کے راستے پر جارحیتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرکے حملوں میں شدت لانے کے فیصلے کے بارے میں بھی کچھ خبریں سامنے آئی ہیں۔
صنعاء میں ذرائع نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ سعودیہ کے اجرتی ٹولوں نے باب المندب کے جنوب میں واقع ایک کھلے علاقے میں پیش قدمی کی ناکام کوشش کی جس کے دوران 400 سے زائد سعودی گماشتے ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ان ذرائع کے مطابق، یہ افواج سعودی منصوبے کے نفاذ کے ابتدائی دنوں میں ذوباب کے فوجی ہوائی اڈے کے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھیں اور کچھ گھنٹوں کے لئے اس کے مغربی حصے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔
تاہم، انصاراللہ نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور اس میں "العمالقہ ملیشیا" کے نشانات والی بکتر بند گاڑیاں استعمال کیں؛ ایسی گاڑیاں جو انصار اللہ نے المخا میں بطور غنیمت حاصل کی تھیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں، انصاراللہ نے ہوائی اڈے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا اور باب المندب تک جانے والے تمام علاقوں کی سلامتی فراہم کرنے میں کامیاب رہی۔ ان افواج نے پھر جزیرہ میون کے تحفظ کے لئے ضروری فوجی تدابیر اختیار کیں؛ ایسے اقدامات جنہوں نے سعودی عرب کی اتحادی افواج کی پیش قدمی کو ناممکن بنا دیا۔
ان پیش رفتوں کے بعد، الصبیحہ کے علاقے میں "العمالقہ ملیشیا" نے ریاض پر الزام لگایا کہ اس نے انصاراللہ کے ساتھ جھڑپ کے دوران انہیں کوئی فضائی مدد فراہم نہیں کی ہے۔
اس کے مقابلے میں، سعودی اجرتی ملیشیا "درع الوطن" کے دستوں نے نے العمالقہ ملیشیا پر الزام لگایا کہ وہ انصاراللہ کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے اور تزویراتی اہمیت کے حامل بالائی علاقوں اور مغربی ساحل پر سپلائی لائنوں پر انصار اللہ کے تسلط کے لئے راستہ ہموار کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: پریسا فیضی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ